
A leaf from history about Islami Jamhori Ittihad (IJI) Led by Molana Sami-ul-Haq (Late) happedn in the year 1990, When Nawaz Sharif was appointed as Prime Minister of Pakistan. How Nawaz was survived when all the IJI was stood against him.
نوازشریف کا شریعت بل اور مولانا سمیع الحق کا میڈم طاہرہ کے ساتھ سکینڈل۔ تاریخ سے ایک دلچسپ باب۔
جنرل ضیا الحق کے جہاز حادثے کے جنرل حمید گل نے جب اسلامی جماعتوں کو اکٹھا کر کے اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر نواز شریف کو اس وعدے کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کا متفقہ امیدوار نامزد کیا کہ وہ اسلامی جمہوری اتحاد کا متفقہ وزیر اعظم بننے کے بعد اسلامی نظام کی راہ ہموار کرے گا-
جب اسلامی جمہوری اتحاد کی سپورٹ سے نوازشریف وزیر اعظم بنا تو اسلامی جمہوری اتحاد کے رہنماوں نے نواز شریف کو وعدہ یاد کروایا تو نواز شریف اپنے وعدے سے ہی پھر گئے تو اسلامی جمہوری اتحاد کے نائب صدر مولانا سمیع الحق (جو ابھی چند سال پہلے قتل ہو گئے تھے) انہوں نے نواز شریف کی وعدہ خلافی پر سینٹ میں اور باہر بہت زور دار تقریریں کرنا شروع کر دیں دوسریطرف بے نظیر بھٹو بھی مظاہرے کر رہی تھی اب نواز شریف کے لیے کافی مشکل حالات پیدا ہو رہے تھے خاص طور پر اسلامی جمہوری اتحاد میں سے کچھ رہنما جن میں مولانا سمیع الحق سر فہرست تھے مولانا سمیع الحق کی تنقید اور تحریک جب زور پکڑنے لگی اور اسلامی جمہوری اتحاد کا حکومت سے نکلنے کی دھمکی دی تو نواز شریف کا اسےوکنا لازم ہو گیا تھا کیونکہ بے نظیر کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد سے مذمت کا بڑھنا نواز شریف کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا تھا کیونکہ حکومت بنی ہی اسلامی جمہوری اتحاد کے اتحاد اور سپورٹ سے تھی
اس لیے حکومت بچانے کے لیے مولانا سمیع الحق کو روکنا لازم تھا مولانا سمیع الحق کے خلاف نواز شریف اینڈ کمپنی نےایک غلیظ پلاننگ کی اور اسلام آباد کی ایک جسم فروش عورت میڈم طاہرہ کو استعمال کر کے جنگ جیو گروپ کے اخبار "دی نیوز" میں میڈم طاہرہ کا انٹرویو چھاپا گیا کہ جس میں اس میڈیم طاہرہ نے بیان دیا کہ مولانا سمیع الحق میرا ریگولر کسٹمر ہے اور اس کی فلاں فلاں حرکات بہت اچھی ہیں اور وہ میرے فلاں فلاں پارٹس اور حرکات و سکنات کو بہت پسند کرتا ہے وغیرہ اور میڈیم طاہرہ کی جانے سے مخصوص پوزیشن کی وجہ سے وہ پاکستانی سیاست میں مولانا سمیع الحق "سینڈوچی " کے نام سے مشہور ہو گئے اور پھر اس اخبار اور انٹرویو کو گلی گلی کوچے کوچے پھیلایا گیا جس سےمولانا سمیع الحق پر لعنت ملامت اور گالم گلوچ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا کہ اسلامی رہنما ہو کر کیا گل کھیلا رہا ہے صرف اخبارات ہی نہیں یہ بات پھر ان کے مخالفین سیاستدانوں نے مرچ مسالحہ لگا کر مزید پھیلایا اور ان کے ساتھ بغل بچہ صحافیوں سے ان پر کالم و مضموناور خبریں لکھوائی گئی

ان شارٹ مولانا سمیع الحق کی جتنی کردار کشی ہو سکتی تھی کی گئی جس پر مولانا سمیع الحق قرآن کریم لیکر روتے ہوئے سینٹ آئے اور سینٹ میں قرآن سر پر رکھ کر قسم کھائی کہ میں اس میڈیم طاہرہ کو جانتا تک نہیں اور نہ ہی زندگی میں کبھی ملا لیکن پانی سر سے گزر چکاتھا اور جتنی کریکٹر اسییسینیشن ہونی تھی ہو چکی تھی جس کو اب واپس لانا ممکن نہیں تھا مولانا سمیع الحق نے احتجاجا استعفی دے دیا اور نواز شریف کے خلاف تحریک ختم کر کے گھر بیٹھ گئے
یہ غلیظ پروپیگنڈہ صرف مولانا سمیع الحق کے خلاف ہی نہیں نواز شریف نے بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کےخلاف بھی چلایا اور ان خواتین کی ننگی تصویریں بنوا کر ان کو اخباروں کی زینت بنوایا اور پھر ہیلی کاپٹروں سے پھینکا گیا اور ان کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے ایک عورت پر اس طرح غلیظ الزامات لگائے گئے جو پاکستانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ ان مکروہات کےبارے واقف ہے
یہ سلسلہ شاید ان لوگوں کی جینز میں ہے یا اس لیے یہ غلیظ کام رکا نہیں اور اس کے بعد عمران خان کے باری آ گئی اور عمران خان پر عائشہ گل لئی کے ذریعے گندے میسجز کا الزامات لگوائے گے جس کا اعتراف خود عائشہ گل لئی نے کیا کہ مجھے ن لیگ نے اس کام کے لیے سینٹ کا ٹکٹ اور سیاسی طور پر سپورٹ کرنے کا لالچ دیا گیا اور بعد میں مکر گئے اور عائشہ گلالئی کے بعد پھر رحام خان کی طلاق کے بعد ان کو استعمال کیا گیا اور ان کے خلاف غلیظ کتاب لکھوائی گئی جس کے بارے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ وہ کتاب ن لیگ کے کن بغل بچہ صحافیوں نے لکھی تھی جن میں عرفان صدیقی اور عطا الحق قاسمی کا نام لیا جاتا ہے اور اب یہ فیک آڈیو کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے تاکہ کسی طرح سے اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا جا سکے لیکن شاید وہ بھول چکے ہیں کہ یہ 1990 نہیں 2022 ہے اور عمران خان کی زیادہ تر سپورٹر پڑھیں لکھی نوجوان نسلہے جو ٹیکنالوجی کے استعمال اور حقیقت کو جانتی ہے
لیکن ساتھ یہ یاد کروا چلو کہ یہ ہے ہمارے ملک کی غلیظ سیاست اپنے سیاسی مخالفین کو گندے الزامات لگا کر سیاسی طور پر کمزور کرنا یہ نواز شریف خاندان کا پرانا طریقہ واردات ہے لہذا مجھے تو اب ان کے اس گند پر کوئی حیرت نہیں ہوتی کیونکہ ان سے اسی کی امید کی جا سکتی ہے حیرت ان پر ہوتی ہے جو ان کی مکروہات جو سچ سمجھ لیتے ہیں اور جانتے بوجھتے ہوئے یملے بن جاتے ہیں تو یاد رکھیں یہ آگ آج یا کل تمہارے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا صرف اقتدار ہوتا ہے

